04 جون 2009
قاہرہ یونیورسٹی - قاہرہ، مصر
آغاز متن
4 جون، 2009
صدر براک اوباما کی تقریر
ایک نئی ابتدا
قاہرہ یونیورسٹی
قاہرہ، مصر
سہ پہر 1:10 (مقامی وقت)
صدر اوباما: آپ کا بے حد شکریہ ۔ گُڈ آفٹرنون ۔ میرے لیئے یہ بڑے اعزاز کی بات ہے کہ میں قاہرہ کے قدیم شہر میں موجود ہوں، اور دو ممتاز ادارے میری میزبانی کر رہے ہیں۔ ایک ہزار سال سے زیادہ عرصے سے ، الاظہر کو اسلامی علوم کے منارۂ نور کی حیثیت حاصل رہی ہے، اور ایک صدی سے زیادہ عرصے سے، قاہرہ یونیورسٹی مصر کی ترقی کا ذریعہ بنی رہی ہے ۔ یہ دونوں ادارے، روایت اور ترقی کا ایک حسین امتزاج پیش کرتے ہیں۔ میں آ پ کی مہمان نوازی، اور مصر کے لوگوں کی مہمان نوازی کے لیئے شکر گذار ہوں۔ مجھے یہ بھی فخر حاصل ہے کہ میں اپنے ساتھ امریکی عوام کے خیرسگالی کے جذبات لے کر آیا ہوں، اور اپنے ملک میں رہنے والے مسلمانوں کی طرف سے امن کا پیغام لایا ہوں:" السلام علیکم"۔(تالیاں)
ہم ایسے وقت میں مِل رہے ہیں جب امریکہ اور دنیا کے مسلمانوں کے درمیان شدید کشیدگی موجود ہے ۔۔ اس کشیدگی کی جڑیں تاریخ میں پیوست ہیں جو آج کل کی کسی پالیسی کے بارے میں بحث تک محدود نہیں ۔ اسلام اور مغرب کے درمیان تعلق میں صدیو ں کی بقائے باہمی اور تعاون شامل ہے ۔ لیکن اس میں تصادم اور مذہبی جنگیں بھی شامل ہیں۔ حالیہ دور میں، کشیدگی کو نو آبادیاتی نظام سے ہوا ملی ہے جس میں بہت سے مسلمانوں کو ان کے حقوق اور مواقع سے محروم رکھا گیا، اور سرد جنگ کے دور میں مسلمان اکثریت والے بہت سے ملکوں کو اپنے مقاصد کے لیئے استعمال کیا گیا، اور ان کی امنگوں کو سرا سر نظر انداز کیا گیا۔ اس کے علاوہ، جدیدیت اور عالمگیریت کی وجہ سے جو زبردست تبدیلیاں آئیں ، ان کی وجہ سے بہت سے مسلمان یہ سمجھنے لگے کہ مغرب اسلامی روایات کے خلاف ہے ۔
متشدد انتہا پسندوں نے ان کشیدگیوں کو ایک چھوٹی سی لیکن طاقتور مسلمان اقلیت کو، مشتعل کرنے کے لیئے استعمال کیا ہے۔ 11ستمبر، 2001 کے حملوں اور ان انتہاپسندوں کی سویلین آبادی کے خلاف مسلسل تشدد کی وجہ سے میرے ملک میں بعض لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ اسلام نہ صرف امریکہ اور مغربی ملکوں کے خلاف ہے، بلکہ وہ انسانی حقوق کا بھی مخالف ہے۔ اِن تمام باتوں کی وجہ سے دونوں طرف اور زیادہ خوف اور بد اعتمادی پیدا ہوئی ہے ۔
جب تک ہمارے تعلق میں ہمارے اختلافات کو نمایاں مقام حاصل رہے گا، ہم ان لوگوں کو طاقتور بناتے رہیں گے جو امن کے بجائے نفرت کے بیج بوتے ہیں، اور جو تعاون کے بجائے تصادم کا پر چار کرتے ہیں۔ تعاون کے ذریعے ہی ہمارے تمام لوگ انصاف اور خوشحالی حاصل کر سکتے ہیں۔ ہمیں شک و شبہ اور تنازعات کے اس چکر سے نکلنا چاہیئے۔
میں امریکہ اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے درمیان ایک نئی ابتدا کی تلاش میں جو مشترکہ مفادات اور باہم احترام پر مبنی ہو، یہاں قاہرہ آیا ہوں ۔ ایسی ابتدا جس کی بنیاد اس سچائی پر ہو کہ امریکہ اور اسلام ایک دوسرے کو مسترد نہیں کرتے، اور ان کے درمیان مسابقت کی فضا قائم ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلکہ ان کے درمیان بہت سی چیزیں مشترک ہیں، ان کے درمیان تمام انسانوں کے لیئے انصاف اور ترقی، رواداری اور عزتِ نفس کے اصول مشترک ہیں۔
مجھے اس بات کا احساس ہے کہ تبدیلی راتوں رات نہیں آ سکتی ۔ میں جانتا ہوں کہ اس تقریر کی بہت تشہیر ہوئی ہے لیکن کسی ایک تقریر سے برسوں کی بداعتمادی ختم نہیں ہو سکتی ، نہ ہی آج کی سہ پہر میں میرے پاس جتنا وقت ہے، اس میں، میں ان تمام پیچیدہ سوالات کے جواب دے سکتا ہوں جن کی وجہ سے ہم یہاں تک پہنچ گئے ہیں ۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ آگے بڑھنے کے لیئے ، ہمیں کُھل کر ایک دوسرے سے وہ باتیں کہنی چاہئیں جو ہمارے دلوں میں محفوظ ہیں، اور جو ہم اکثر بند دروازوں کے پیچھے کہتے ہیں۔ ہمیں ثابت قدمی سے ایک دوسرے کی بات سننی چاہیئے، ایک دوسرے سے سیکھنا چاہیئے، ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیئے، اور مشترکہ موقف تلاش کرنا چاہیئے۔ جیسا کہ قرآن شریف میں کہا گیا ہے،" اللہ کو حاٖضر و ناظر جانو اور ہمیشہ سچ بولو" ۔(تالیاں) ۔ آج میں یہی کچھ کرنے کی کوشش کروں گا۔ اپنی بساط کے مطابق میں صرف سچ بولوں گا، اِس احساس کے ساتھ کہ ہمارے سامنے جو کام ہے وہ بہت بڑا ہے، اور اس پختہ یقین کے ساتھ کہ انسانوں کی حیثیت سے ہمارے جو مفاد ات مشترک ہیں، وہ ان طاقتوں کے مقابلے میں جو ہمیں ایک دوسرے سے جدا کرتی ہیں، کہیں زیادہ طاقتور ہیں۔
اِس یقینِ محکم کی وجہ جزوی طور پر میرا اپنا تجربہ ہے ۔ میں عیسائی ہوں۔ لیکن میرے والد کا تعلق کینیا کے ایک گھرانے سے تھا جس میں مسلمانوں کی کئی نسلیں شامل تھیں۔ اپنے لڑکپن میں، میں نے انڈونیشیا میں کئی سال گذارے اور علی الصبح فجر کے وقت اور شام ڈھلے مغرب کے وقت میرے کانوں میں اذان کی آواز آتی تھی۔ نوجوانی میں ، میں نے شکاگو کی بستیوں میں کام کیا، جہاں میں نے دیکھا کہ بہت سے لوگوں کو اپنے اسلامی دین میں تزکیہ نفس اور امن و آشتی کی دولت ملتی ہے ۔
تاریخ کے طالب علم کی حیثیت سے، میں یہ بھی جانتا ہوں کہ انسانی تہذیب کِس حد تک اسلام کی رہینِ منت ہے ۔ الاظہر یونیورسٹی جیسے اداروں میں، یہ اسلام ہی تھا جس نے صدیوں تک علم کی روشنی پھیلائی، اور یورپ میں نشاۃ ثانیہ اور روشن خیالی کی راہ ہموار کی۔ یہ مسلمان ملکوں میں ایجا د و اختراع کی تحریک ہی تھی (تالیاں) جس کی بدولت الجبرا کے اصول اور قاعدے دریافت ہوئے، ہمیں مقناطیسی کمپاس اور بحری جہاز رانی کے آلات ملے، ہم مختلف قسم کے قلم اور طباعت پر عبور حاصل ہوا، اور ہمیں یہ پتہ چلا کہ بیماری کیسے پھیلتی ہے اور اس کا علاج کِس طرح کیا جا سکتا ہے۔ اسلامی ثقافت نے ہمیں محرابیں اور آسمان سے باتیں کرتے ہوئے مینار دیے ہیں؛ہمیں لا زوال شاعری اور خوبصورت موسیقی عطا کی ہے؛ خوبصورت خطاطی اور عبادت اور غور و خوض کے پر سکون مقامات، یہ سب اسلامی ثقافت کی دین ہیں۔ اور پوری تاریخ میں، اسلام نے اپنے قول و فعل سے مذہبی رواداری اور نسلی مساوات کے امکانات کا عملی مظاہرہ کیا ہے ۔
(تالیاں)
میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اسلام ہمیشہ سے امریکہ کی زندگی کا حصہ رہا ہے ۔ میرے ملک کو تسلیم کرنے والے پہلا ملک مراقش تھا۔ 1796 میں ہمارے دوسرے صدر John Adams نے معاہدۂ طرابلس پر دستخط کرتے ہوئے لکھا تھا، "امریکہ کو مسلمانوں کے قوانین، مذہب یا ان کے آرا م و سکون سے کوئی عناد نہیں ہے، اور دونوں ملکوں کے درمیان جو اچھے تعلقات قائم ہیں، ان میں کبھی کوئی مذہبی آرا مخل نہیں ہوں گی۔" اور ہمارے ملک کے قیام کے بعد سے اب تک، امریکی مسلمانوں نے ہمارے ملک کو مالا مال کیا ہے ۔انھوں نے جنگیں لڑی ہیں، انھوں نے حکومت میں خدمات انجام دی ہیں، انھوں نے شہری حقوق کے لیئے جدو جہد کی ہے، کاروبار شروع کیئے ہیں، انھوں نے ہماری یونیورسٹیوں میں پڑھایا ہے، انھوں نے کھیل کے میدانوں میں کارنامے انجام دیے ہیں، انھوں نے نوبیل انعام جیتے ہیں، ہماری سب سے اونچی عمارت تعمیر کی ہے، اور اولمپک مشعل روشن کی ہے ۔ یہ کہانی کئی صدیوں پر محیط ہے۔ اور اس بات کا مظاہرہ اس وقت ہوا جب پہلے مسلمان امریکی حال ہی میں کانگریس کے رکن منتخب ہوئے ، اور انھوں نے ہمارے آئین کی حفاظت کا حلف اسی قرآن شریف پر لیا جو تھامس جیفرسن، جو ہماری مملکت کے بانیوں میں سے ہیں، اپنی لائبریری میں رکھتے تھے۔ (تالیاں)
چنانچہ اس برِ اعظم میں آنے سے پہلے جہاں قرآن شریف نازل ہوا تھا، میں نے تین برِ اعظموں میں اسلام سے واقفیت حاصل کی۔ اس تجربے سے میرے اِس یقین کو رہنمائی ملی ہے کہ امریکہ اور اسلام کے درمیان شراکت داری کی بنیاد اس بات پر ہونی چاہیئے کہ اسلام در اصل کیا ہے، نہ کہ ان چیزوں پر جو اسلام کا حصہ نہیں ہیں۔ امریکہ کے صدر کی حیثیت سے میں اسے اپنی ذمے داری سمجھتا ہوں کہ اسلام کے بارے میں جہاں کہیں گھسے پٹے منفی خیالات پائے جاتے ہیں، ان کے خلاف جنگ کروں۔(تالیاں)
لیکن اسی اصول کا اطلاق امریکہ کے بارے مسلمانوں کے خیالات پر بھی ہونا چاہیئے۔ (تالیاں) ۔ جس طرح سارےمسلمانوں کو کسی ایک گھسے پٹے سانچے میں نہیں ڈھالا جا سکتا، اسی طرح امریکہ بھی کوئی ایسی مفاد پرست سامراجی سلطنت نہیں ہے جسے کسی ایک گھسے پٹے سانچے میں ڈھالا جا سکے۔ ترقی کے جن عظیم ترین وسائل نے دنیا کو مالا مال کیا ہے، امریکہ انہیں عظیم وسائل میں شامل ہے ۔ہمارا ملک ایک سلطنت کے خلاف انقلاب کے نتیجے میں وجود میں آیا تھا۔ہمارے قیام کی بنیاد یہ اصول تھا کہ تمام انسان برابر پیدا ہوئے ہیں، اور ہم نے ، اپنی سرحدوں کے اندر، اور دنیا بھر میں ، ان الفاظ کو معنی دینے کے لیئے صدیوں تک جد و جہد کی ہے اور اپنا خون بہایا ہے ۔ دنیا کے کونے کونے کی بہت سے ثقافتوں نے ہماری شکل متعین کی ہے اور ہم نےخود کو ایک سادہ سے تصور کے لیئے وقف کر دیا ہے: E pluribus unum یعنی، "بہت سوں سے مِل کر ایک۔"
اِس بات کو بہت اہمیت دی گئی ہے کہ ایک افریقی امریکی جس کا نام براک حسین اوباما ہے، امریکہ کا صدر منتخب ہوا ہے۔ (تالیاں)۔ لیکن میری ذاتی کہانی اتنی زیادہ منفرد نہیں ہے ۔ امریکہ میں سب لوگوں کے خواب تو پورے نہیں ہوئے ہیں لیکن جو لوگ بھی ہمارے ساحلوں تک پہنچے ہیں، ان سب کو برابر کے مواقع کی وعید ضرور ملی ہے۔ اور ان میں تقریباً ستّر لاکھ امریکی مسلمان بھی شامل جو ہمار ے ملک میں رہتے ہیں۔ میں یہ بتاتا چلوں کہ ان کی آمدنی اور تعلیمی سطح، امریکہ کے اوسط سے زیادہ ہے ۔(تالیاں)
اس کے علاوہ، امریکہ میں آزادی اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی سے الگ چیز نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک کی ہر ریاست میں مسجدیں موجود ہیں، اور ہماری سرحدوں کے اندر مسجدوں کی تعداد 1,200 سے زیادہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ حکومت عورتوں اور لڑکیوں کے حجاب لینے کے حق کی حفاظت کے لیئے، اور ان لوگوں کو سزا دینے کے لیئے جو انہیں اِس حق سے محروم کرنا چاہتے ہیں، عدالت میں گئی ہے ۔(تالیاں)
چنانچہ، اس بارے میں کسی کو کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیئے۔ اسلام امریکہ کا حصہ ہے ۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ کے اندر یہ صداقت موجود ہے کہ ہماری نسل، مذہب اور زندگی میں ہمارا مقام چاہے کچھ ہی کیوں نہ ہو، ہم سب کی امنگیں اور آرزوئیں مشترک ہیں ۔ ۔ آزادی اور سلامتی کے ساتھ زندگی گذارنا؛ تعلیم حاصل کرنا، اور عزت و وقار کے ساتھ کام کرنا؛ اپنے گھرانوں ، اپنی بستیوں، اور اپنے خدا سے محبت کرنا۔ یہ چیزیں ہم سب میں مشترک ہیں۔ ساری انسانیت کی امید یہی ہے ۔
ظاہر ہے ، کہ اپنے مشترکہ انسانی ورثے کو تسلیم کرنے سے ، ہمارا کام ختم نہیں ہو جاتا۔ بلکہ یہ تو محض ابتدا ہے ۔ صرف الفاظ سے لوگوں کی ضرورتیں پوری نہیں ہو سکتیں۔یہ ضرورتیں اسی صورت میں پوری ہو سکتی ہیں اگر ہم آنے والے برسوں میں ہمیں جرأ ت کے ساتھ اقدامات کریں اور ہم یہ بات سمجھیں کہ دنیا بھر کے لوگوں کے ایک جیسے مسائل درپیش ہیں، اور اگر ہم ان سے نمٹنے میں نا کام رہے، تو اس سے ہم سب کو نقصان ہو گا۔
ہم نے حالیہ تجربوں سے سیکھا ہے کہ جب مالیاتی نظام ایک ملک میں کمزور ہوتا ہے ، تو ہر جگہ خوشحالی پر بُرا اثر پڑتا ہے ۔ جب کسی ایک انسان کونئے قسم کے فلو کا انفیکشن ہوتا ہے، تو سب خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔ جب ایک ملک نیوکلیئر ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے ، تو تمام ملکوں کے لیئے نیوکلیئر حملے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ جب متشدد انتہا پسند پہاڑوں کے ایک حصے میں کارروائیاں کرتے ہیں، تو سمندر پار رہنے والوں کے لیئے خطرہ پیدا ہو جاتا ہے ۔ اور جب ڈارفر میں اور بوسنیا میں ہ بے گناہ لوگ قتل کیئے جاتے ہیں، تو یہ ہم سب کے اجتماعی ضمیر پر کلنک کا ٹیکہ ہوتا ہے ۔ (تالیاں) ۔ اکیسویں صدی میں دنیا میں مشترکہ ذمے داری کا مطلب یہی ہے ۔ انسانوں کی حیثیت سے ہم اس طرح ایک دوسرے کے لیئے ذمہ دار ہیں۔
اِس ذمہ داری کو گلے لگانا بڑا مشکل کام ہے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ انسانی تاریخ میں ملکوں اور قبیلوں، اور مذاہب نے اپنے مفادات کی خاطر ایک دوسرے کو غلام بنایا ہے ۔لیکن اِس نئے دور میں، اس طرح کام نہیں چلے گا۔چونکہ تمام ملک ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں، اس لیئے کوئی بھی عالمی نظام جس کے تحت ایک ملک یا لوگوں کا ایک گروپ دوسرے پر حاوی ہو جاتا ہے، بالآخر ناکام ہو جائے گا۔ چنانچہ ہم ماضی کے بارے میں ہم جو بھی سوچیں، ہمیں اس کا قیدی نہیں بننا چاہیئے۔ ہمیں اپنے مسائل شراکت داری سے حل کرنے چاہئیں، اور ہماری ترقی میں سب کا حصہ ہونا چاہیئے۔ (تالیاں)
اب اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیں کشیدگی کے اسباب کو نظر انداز کر دینا چاہیئے ۔ بلکہ ہمارا رویہ اس کے بر عکس ہونا چاہیئے۔ ہمیں ان وجوہات کو جرأ ت سامنا کرنا چاہیئے۔ اِس جذبے کے تحت، میں کچھ ایسے مخصوص مسائل کے بارے بالکل صاف بات کرنا چاہوں گا جن کا سامنا ہمیں مِل جُل کر کرنا ہے۔
پہلا مسئلہ جس کا ہمیں مقابلہ کرنا ہے، وہ تمام اشکال میں، پُر تشدد انتہا پسندی ہے ۔
انقرہ میں، میں نے یہ بات واضح کر دی تھی کہ امریکہ اسلام کے ساتھ حالتِ جنگ میں نہیں ہے، اور نہ کبھی ایسا ہوگا۔(تالیاں)۔ تا ہم، ہم ان متشدد انتہا پسندوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے جو ہماری سیکورٹی کے لیئے سنگین خطرہ بنیں گے۔ کیوں کہ ہم بھی ان تمام چیزوں کے مسترد کرتے ہیں جنہیں تمام مذاہب کے ماننے والے مسترد کرتے ہیں، یعنی بے گناہ مردوں، عورتوں اور بچوں کو قتل کرنا۔اور صدر کی حیثیت سے میرا پہلا فرض امریکیوں کی حفاظت ہے۔
افغانستان میں جو صورتِ حال ہے اس سے امریکہ کے مقاصد، اور ہمارے ایک ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت، دونوں کا اظہار ہوتا ہے ۔ سات سال سے زیادہ ہوئے کہ امریکہ نے وسیع بین الاقوامی حمایت کے ساتھ، القاعدہ اور طالبان کا پیچھا کیا۔ ہم نے اس راہ کا انتخاب خود نہیں کیا۔ ہمیں ایسا مجبوراً کرنا پڑا۔ میں جانتا ہوں کہ اب بھی کچھ لوگوں کے ذہن میں نائن الیون کے واقعات کے بارے میں سوالات ہیں بلکہ کچھ لوگ ان کا جواز بھی پیش کرتے ہیں۔ لیکن ایک بات بالکل واضح ہے ۔ القاعدہ نے گیارہ ستمبر، 2001 کو تقریباً 3,000 افراد ہلاک کر دیے۔ ہلاک ہونے والے مرد ، عورتیں اور بچے، بےگناہ تھے۔ ان میں امریکی تھے اور دوسرے بہت سے ملکوں کے لوگ تھے جنھوں نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا تھا۔ لیکن اس کے باوجود، القاعدہ نے ان لوگوں کو بلا دریغ ہلاک کیا، اور دعویٰ کیا کہ اس نے یہ حملہ کیا ہے۔ القاعدہ نے بار بار اپنے اِس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ پھر بڑے پیمانے پر قتل کرے گی۔ بہت سے ملکوں میں ان کی ذیلی تنظیمیں موجود ہیں اور وہ اپنی رسائی کو وسعت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کسی کی ذاتی آرا نہیں ہیں جن پر بحث کی جائے۔ یہ وہ حقائق ہیں جن کا سامنا ہمیں کرنا ہے ۔
اِس میں شبہے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ہم افغانستان میں اپنی فوجیں رکھنا نہیں چاہتے۔ ہمیں وہاں فوجی اڈ ے نہیں چاہئیں۔ اپنے نوجوان مردوں اور عورتوں سے ہاتھ دھو بیٹھنا ہمارے لیئے بڑا تکلیف دہ ہے ۔ اس جنگ کو جاری رکھنا بہت مہنگا اور سیاسی طور پر بہت مشکل کام ہے ۔ ہم بخوشی اپنے تمام فوجیوں کو واپس لے آئیں گے اگر ہمیں یہ اطمینان ہو کہ افغانستان میں اور اب پاکستان میں ایسے متشدد انتہا پسند موجود نہیں ہیں جو زیادہ سے زیادہ امریکیوں کو ہلاک کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ لیکن اب تک ایسا ہوا نہیں ہے ۔
اور یہی وجہ ہے کہ ہم نے 46 ملکوں کے اتحاد کے ساتھ شراکت داری قائم کی ہے۔ اور بھاری قیمت کے باوجود، امریکہ کا عزم کمزور نہیں ہو گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے کسی کو بھی ان انتہا پسندوں کو برداشت نہیں کرنا چاہیئے۔ انھوں نے بہت سے ملکوں میں لوگوں کو ہلاک کیا ہے ۔ انھوں نے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کو ہلاک کیا ہے، اور ہلاک ہونے والوں میں سب سے زیادہ تعداد مسلمانوں کی ہے ۔ ان کی کاروائیاں انسانوں کے حقوق، ملکوں کی ترقی، اور اسلام کی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ قرآن شریف کی تعلیم یہ ہے کہ جو کوئی کسی بے گناہ انسان کو قتل کرتا ہے، وہ گویا پوری انسانیت کا قاتل ہے۔اورقرآن شریف میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو کوئی کسی انسان کی جان بچاتا ہے، اس نے گویا پوری انسانیت کی جان بچائی ہے۔ (تالیاں)۔ ایک ارب لوگوں سے زیادہ لوگوں کا یہ خوبصورت دین، تنگ نظری پر مبنی چند لوگوں کی نفرت سے کہیں زیادہ عظیم ہے۔ متشدد انتہا پسندوں کے خاتمے میں اسلام کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ یہ تو امن کے فروغ کا اہم ذریعہ ہے۔
ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ صرف فوجی طاقت سے افغانستان اور پاکستان کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔یہی وجہ ہے کہ کہ ہم اگلے پانچ برسوں کے دوران، ہر سال $1.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے اور پاکستانیوں کی شراکت داری میں اسکول اور ہسپتال ، سڑکیں اور کاروباری ادارے تعمیر کریں گے، اور اپنے گھروں سے بے دخل ہوجانے والوں کی مدد کے لیئے کروڑوں ڈالر دیں گے۔ اور یہی وجہ ہے کہ ہم افغانستان کے لوگوں کو $2.8 ارب ڈالر سے زیادہ امداد دے رہے ہیں تا کہ وہ اپنی معیشت کو ترقی دے سکیں، اور وہ سہولتیں فراہم کر سکیں جن پر لوگوں کا انحصار ہے ۔
میں عراق کے مسئلے پر بھی بات کرنا چاہوں گا۔ افغانستان کے برعکس، عراق کی جنگ ہم نے اپنی مرضی سے شروع کی تھی۔ اس جنگ کی وجہ سے میرے ملک میں اور دنیا بھر میں شدید اختلافات کو ہوا ملی۔ اگرچہ میرا خیال یہ ہے کہ عراق کے عوام صدام حسین کی بربریت سے نجات پا چکے ہیں اور ان کی حالت پہلے سے بہتر ہے، میرا یہ بھی خیال ہے کہ عراق کے واقعات سے امریکہ کو یہ سبق ملا ہے کہ جب کبھی ممکن ہو، ہمیں اپنے مسائل کے حل کے لیئے سفارتکاری کو استعمال کرنا چاہیئے اور بین الاقوامی اتفاقِ رائے حاصل کرنا چاہیئے۔ (تالیاں) ۔ سچی بات یہ ہے کہ ہم اپنے ایک عظیم صدر، تھامس جیفرسن کے الفاظ یاد کر سکتے ہیں جنھوں نے کہا تھا کہ " مجھے امید ہے کہ طاقت کے ساتھ ساتھ، ہماری عقل و دانش میں اضافہ ہو گا، اور ہم یہ سیکھیں گے کہ ہم اپنی طاقت کو جتنا کم استعمال کریں گے، اتنا ہی اِس طاقت میں اضافہ ہو گا۔"
آج امریکہ پر دہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے: بہتر مستقبل کی تعمیر میں عراق کی مدد کرنا، اور عراق کو عراقیوں کے حوالے کرنا۔ اور میں نے یہ بات عراق کے لوگوں کو صاف طور پر بتا دی ہے ۔ (تالیاں) ۔ میں نے عراقی عوام پر واضح کر دیا ہے کہ ہم وہاں کوئی اڈے نہیں چاہتے، اور ان کے علاقے یا وسائل پر ہمارا کوئی حق نہیں ہے۔ عراق کے اقتدارِ اعلیٰ پر وہاں کے عوام کا اختیار ہے۔یہی وجہ ہے کہ میں نے اگلے سال اگست تک، وہاں سے اپنے جنگی بریگیڈ نکالنے کا حکم دیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم عراق کی جمہوری طور پر منتخب حکومت کے ساتھ اپنے سمجھوتے کی پابندی کریں گےاور عراق کے شہروں سے اپنے لڑاکا فوجی جولائی تک ا ور 2012 تک اپنی تمام فوجیں نکال لیں گے۔ (تالیاں) ۔ ہم عراق کی سیکورٹی فورسز کی تربیت میں مدد دیں گے اور اس کی معیشت کو ترقی دیں گے۔ لیکن ہم ایک محفوظ اور متحد عراق کی مدد ایک شراکت دار کی حیثیت سے کریں گے، مربی کی طرح کبھی نہیں۔
اور آخری بات یہ ہے کہ جس طرح امریکہ کبھی بھی انتہاپسندوں کا تشدد برداشت نہیں کرسکتا، اسی طرح ہمیں کبھی اپنے اصول تبدیل یا فراموش نہیں کرنے چاہئیں۔ نائن الیون ہمارے ملک کے لیئے ایک عظیم صدمہ تھا۔ اس کی وجہ سے خوف اور ناراضگی پیدا ہونے کی بات سمجھ میں آتی ہے، لیکن بعض صورتوں میں، اس کی وجہ سے ہم نے کچھ ایسے اقدام کیئے جو ہماری روایات اور ہمارے اصولوں کے خلاف تھے۔ ہم اپنی راہ تبدیل کرنے کے لیئے ٹھوس اقدامات کر رہے ہیں۔ میں نے صاف طور پرامریکہ کی طرف سے اذیت رسانی کا استعمال ممنوع قرار دے دیا ہے، اور میں نے حکم دیا ہے کہ گوانتنامو بے کے قید خانے کو اگلے سال کے شروع تک بند کر دیا جائے۔ (تالیاں)۔
چنانچہ امریکہ اپنا دفاع کرتے ہوئے دوسرے ملکوں کے اقتدارِ اعلیٰ اور قانون کی حکمرانی کا احترام کرے گا۔اور ہم یہ سب مسلمان کمیونٹیوں کی شراکت داری کے ساتھ کریں گے جو خود بھی خطرے میں ہیں۔ جتنی جلدی انتہا پسند الگ تھلگ کر دیے جائیں گے اور مسلمان بستیوں میں نا پسندیدہ قرار دے دیے جائیں گے، اتنی ہی جلدی ہم سب محفوظ ہو جائیں گے۔
کشیدگی کی دوسرے بڑی وجہ جس پر ہمیں بات کرنی چاہیئے وہ اسرائیلیوں، فلسطینیوں اور عرب دنیا کے درمیان تعلقات کی صورتِ حال ہے ۔
اسرائیل کے ساتھ امریکہ کے مضبوط رشتوں کے بارے میں سب جانتے ہیں۔ یہ رشتہ نا قابلِ تنسیخ ہے ۔ اس کی بنیاد ثقافتی اور تاریخی بندھنوں پر، اور اس احساس پر ہے کہ یہودیوں کی ایک وطن کی آرزو کی بنیاد ایک المناک تاریخ پر ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
دنیا بھر میں یہودی عوام پر صدیوں تک ظلم کیئے جاتے رہے، اور یورپ میں یہود دشمنی کا انجام نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں کے قتل عام کی صورت میں نکلا جسے Holocaust کا نام دیا گیا ہے۔ کل میں Buchenwald جاؤں گا جو ان کیمپوں کے نیٹ ورک کا حصہ تھا جہاں یہودیوں کو غلام بنایا جاتاتھا، انہیں اذیتیں دی جاتی تھیں، انہیں گولی ماری جاتی تھی اور زہریلی گیس سے موت کی نیند سلا دیا جاتا تھا۔ ساٹھ لاکھ یہودیوں کو ہلاک کیا گیا۔ یہ تعداد آج کے اسرائیل کی کُل آبادی سے بھی زیادہ ہے ۔اِس حقیقت سے انکار کرنا بے بنیاد بات ہے اور ناواقفیت اور نفرت پر مبنی ہے ۔اسرائیل کو تباہی کی دھمکی دینا، یا یہودیوں کے بارے میں گھسی پٹی گمراہ کُن باتیں دہرانا، سرا سر غلط ہے۔ ایسی باتوں سے اسرائیلیوں کے ذہن میں تکلیف دہ واقعات کی یاد تازہ ہوتی ہے، اور امن کی راہ مسدود ہو جاتی ہے جس کے اِس علاقے کے لوگ مستحق ہیں۔
دوسری طرف ، اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ فلسطین کے لوگوں نے، جن میں مسلمان اور عیسائی دونوں شامل ہیں، اپنے وطن کی حصول کی راہ میں بڑے مصائب برداشت کیئے ہیں۔ ساٹھ برس سے زیادہ عرصے سے انھوں نے بے گھر ہونے کی اذیت برداشت کی ہے ۔ بہت سے لوگ مغربی کنارے کے پناہ گزیں کیمپوں میں ، غزہ میں، اور آس پاس کی علاقوں میں امن و سلامتی کی ایسی زندگی کے انتظار میں ہیں جو انہیں کبھی نہیں مِل سکی۔ وہ اپنی روز مرہ زندگی میں چھوٹی بڑی ذلتیں برداشت کرتے ہیں جو غیر ملکی قبضے کے ساتھ آتی ہیں۔ چنانچہ اس بات میں کسی کو شبہ نہیں ہونا چاہیئے کہ فلسطینی عوام کی صورتِ حال نا قابلِ برداشت ہے ۔ امریکہ ایک با وقار اور مواقع سے بھر پور زندگی اور اپنی ایک مملکت کے لیئے فلسطینیوں کی جائز امنگوں سے منہ نہیں موڑے گا۔ (تالیاں)
کئی عشروں سے تعطل کی کیفیت جاری ہے۔ دو علاقوں کے عوام، جن میں سے ہر ایک کی تکلیف دہ تاریخ ہے جس کی وجہ سے مصالحت مشکل ہو گئی ہے ۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی آسان ہے۔ فلسطینی کہتے ہیں کہ اسرائیل کے قیام کی وجہ سے انہیں اپنے گھر بار چھوڑنے پڑے، اور اسرائیلی کہتے ہیں کہ اس کی تاریخ میں مسلسل اس کی سرحدوں کے اندر، اور باہر سے مسلسل حملے ہوتے رہے ہیں۔ لیکن اگر ہم اس تنازعے کو صرف کسی ایک رُخ سے دیکھیں، تو ہم سچ تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ حل صرف یہی ہے کہ دونوں فریقوں کی امنگیں دو مملکتوں کے قیام کے ذریعے پوری ہوں، جن میں اسرائیلی اور فلسطینی امن اور سلامتی میں زندگی گذار سکیں۔(تالیاں)۔
یہ بات اسرائیل کے مفاد میں ہے، فلسطین کے مفاد میں ہے، اور امریکہ کے مفاد میں ہے اور دنیا کے مفاد میں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ میں ذاتی طور پر اِس نتیجے کے حصول کے لیئے کوشش کروں گا ، چاہے اس کے لیئے کتنا ہی صبر درکار کیوں نہ ہو۔ (تالیاں)۔ روڈ میپ کے تحت فریقین نے جو ذمہ داریاں پوری کرنے کا عہد کیا ہے، وہ واضح ہیں۔ امن کی خاطر، ان کے لیئے اور ہم سب کے لیئے ضروری ہے کہ ہم اپنے ذمہ داریاں پوری کریں۔
فلسطینیوں کو تشدد ترک کرنا چاہیئے۔ تشدد اور ہلاکتوں کے ذریعے مزاحمت غلط ہے ، اور کبھی کامیاب نہیں ہوتی۔صدیوں تک، امریکہ میں سیاہ فام لوگ غلاموں کی حیثیت سے کوڑوں کی تکلیف اور نسلی امتیاز کی اذیتیں برداشت کرتے رہے۔لیکن انھوں نے مکمل اور برابر کے حقوق تشدد کے ذریعے حاصل نہیں کیئے۔ اس کے لیئے انھوں نے پر امن طریقے سے اور پورے عزم کے ساتھ امریکہ کے بانیوں کے اصولوں پر اصرار کیا۔یہی کہانی جنوبی افریقہ سے لے کر جنوبی ایشیا اور مشرقی یورپ سے لےکر انڈونیشیا کے عوام بھی دہرا سکتے ہیں۔ اس کہانی کی بنیاد ایک سادہ سچائی پر قائم ہے۔ تشدد ایک بند گلی ہے۔ یہ بہادری یا طاقت نہیں کہ محوِ خواب بچوں پر راکٹ داغے جائیں، یا بس میںسوار بوڑھی عورتوں کو دھماکے سے اڑا دیا جائے۔ اس طرح اخلاقی جواز حاصل نہیں کیا جاتا، بلکہ اس طرح اخلاقی جواز گنوایا جاتا ہے۔
فلسطینیوں کے لیے وقت آ گیا ہے کہ وہ اس بات پر توجہ مرکوز کریںکہ وہ کیا تعمیر کر سکتے ہیں۔ فلسطینی انتظامیہ کو خود حکومت کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہو گی اور ایسے ادارے قائم کرنا ہوں گے جو اس کے عوام کی ضروریات پوری کر سکیں۔ حماس کو کچھ فلسطینیوں کی حمایت حاصل ہے، لیکن اسے سمجھنا چاہیئے کہ اس کے اوپر ذمے داریاںبھی عائد ہوتی ہیں۔ فلسطینیوں کی امنگوںکے حصول کے لیے اور فلسطینیوں کو متحد کرنے کے لیے حماس کو تشدد ترک کرنا ہو گا، اور اسرائیل کے حقِ وجود کو تسلیم کرنے کے سابقہ معاہدوں کو رد کرنے کے وتیرے سے دست بردار ہونا پڑے گا۔
اس کے ساتھ اسرائیل کو بھی یہ بات تسلیم کرنا ہو گی کہ جس طرح اسرائیل کا حقِ وجود جھٹلایا نہیں جا سکتا، ویسے ہی فلسطینیوں کو بھی یہی حق حاصل ہے۔ امریکہ ان لوگوں کا استحقاق تسلیم نہیں کرتا جو اسرائیل کو سمندر میں دھکیل دینا چاہتے ہیں، تاہم ہم اسرائیل کی طرف سے مسلسل نئی آبادیاں بسائے چلے جانے کے استحقاق کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔(تالیاں)۔ یہ تعمیرات سابقہ معاہدوں کی خلاف ورزی کرتی ہیں اور امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان تعمیرات کو روک دیا جائے۔ (تالیاں)۔
اسرائیل کو ہر صورت ان معاہدوںکی پاس داری کرنا ہو گی جن کے تحت فلسطینی جی سکیں، کام کر سکیں، اور اپنا معاشرہ تعمیر کر سکیں۔ اور بالکل ایسے ہی، جیسے غزہ میں مسلسل جاری انسانی بحران فلسطینیوںکو دہلا کر رکھ دیتا ہے، ویسے ہی یہ اسرائیل کے تحفظ میںبھی حائل ہوتا ہے۔ اور نہ ہی مغربی کنارے میں مواقع کا فقدان اسرائیل کے حق میںجاتا ہے۔ فلسطینیوں کی روزمرہ زندگی میںترقی امن کی شاہراہ کا حصہ ہونی چاہیئے، اور اسرائیل کو اس ترقی کو ممکن بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا ہوںگے۔
آخر میں، عرب ممالک کو یہ بات تسلیم کرنی چاہیئے کہ امن کا عرب منصوبہ ایک اچھا آغاز تھا، تاہم ان کی ذمے داریاںاسی پر ختم نہیں ہو جاتیں۔ عرب اسرائیل تنازعے کو عرب شہریوںکی دوسرے مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے مزید استعمال نہیںکیا جانا چاہیئے۔ اس کے برعکس اس تنازعے کو فلسطینیوں کو ریاستی ادارے تعمیر کرنے میں مدد دینے کے لیے بروئے کار لانا چاہیئے۔ اس تنازعے کو اسرائیل کے استحقاق کوتسلیم کرنے اور ماضی پر شکست خوردانہ توجہ کی بجائے ترقی کو ترجیح دینے کے لیے استعمال کرنا چاہیئے۔
امریکہ اپنی پالیسیاں ان کے ساتھ مربوط کرے گا جو امن کے متلاشی ہیں اور وہ جو باتیں سرِ عام کرتا ہے، وہی اسرائیلیوں، فلسطینیوں اور عربوں کے ساتھ خلوت میںبھی کہے گا۔ (تالیاں)۔ ہم زبردستی امن نافذ نہیں کر سکتے۔ لیکن بہت سے عرب خلوت میں یہی کہتے ہیںکہ اسرائیل کہیں جائے گا نہیں۔ اسی طرح بہت سے اسرائیلی فلسطینی ریاست کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں۔ یہ ہمارے لیے وقت ہے کہ اس بات پر عمل کریںجس کے بارے میںہر کوئی جانتا ہے کہ وہ سچ ہے۔
بہت سے آنسو بہائے جا چکے ہیں۔ بہت سا خون بہہ چکا ہے۔ یہ ہم سب کی ذمے داری ہے کہ اس دن کے لیے کام کریںجب اسرائیلی اور فلسطینی مائیں اپنے بچوں کو بغیر کسی خوف کے پروان چڑھتا دیکھ سکیں، جب تین عظیم مذاہب کی ارضِمقدس امن کی وہ سرزمین بن جائے جیسی خدا چاہتا تھا، جب یروشلم یہودیوں، عیسائیوںاور مسلمانوں کے لیے ایک محفوظ اور ابدی مقام بن جائے،(تالیاں)۔ ایک ایسی جگہ جہاں آلِ ابراہیم اسرا (ISRA) کے اس قصے کی مانند امن و آشتی سے اکٹھے ہوں، جب موسیٰ، عیسیٰ اور محمد (علیہ السلام) نے مل کر دعا کی تھی۔(تالیاں)۔
تناؤ کی تیسری وجہ ان اقوام کے حقوق اور فرائض میں ہمارا مشترکہ مفاد ہے جو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں۔
یہی قضیہ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان حالیہ تناؤ کا باعث رہا ہے۔ کئی برسوں سے ایران نے میرے ملک کی مخالفت اپنی شناخت بنا رکھی ہے، اور بے شک ہم دونوں کے درمیان ہنگامہ خیز تاریخ موجود ہے۔ سرد جنگ کے دوران امریکہ نے ایران میں ایک جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے میں کردار ادا کیا تھا۔ اسلامی انقلاب کے بعد ایران نے یرغمال بنانے اور امریکی فوجیوں اور شہریوں کے خلاف تشدد میں کردار ادا کیا ہے۔ یہ تاریخ سب کو معلوم ہے۔ تاہم ماضی میںمقید رہنے کی بجائے میں نے ایرانی رہنماؤں اور عوام پر یہ واضح کر دیا ہے کہ میرا ملک آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ ایران کس چیز کے خلاف ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے لیے کیسا مستقبل بنانا چاہتا ہے۔
میں یہ بات سمجھتا ہوں کہ عشروں کے عدم اعتماد پر قابو پانا مشکل ہو گا، لیکن ہم جرات، راست بازی اور عزم کے ساتھ پیش قدمی کریں گے۔ دونوں ممالک کے درمیان کئی معاملات پر تبادلۂ خیال ہو گا اور ہم بغیر پیشگی شرائط باہمی احترام کی بنا پر آگے بڑھنے کے لیے آمادہ ہیں۔ تاہم یہ بات ان سب پر واضح ہے جو ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں فکر مند ہیںکہ ہم ایک فیصلہ کن مرحلے پر پہنچ چکے ہیں۔ یہ محض امریکہ کے مفاد کے بارے میں نہیں ہے، یہ مشرقِ وسطیٰ میں اسلحے کی اس خطرناک دوڑ کو روکنے کے بارے میں ہے جو ایک طرف تو اس خطے کو ایک بے حد خطرناک راستے پر دھکیل دے گی تو دوسری طرف عالمی عدم پھیلاؤ کے قوانین کو بھی تہس نہس کر دے گی۔
میںان لوگوں کا موقف سمجھتا ہوں جو کہتے ہیں کہ کچھ ممالک کے پاس ایٹمی اسلحہ ہے اور کچھ کے پاس نہیں۔ کسی واحد ملک کو یہ اختیار نہیںہونا چاہیئے کہ کون سے ممالک کے پاس ایٹمی اسلحہ ہونا چاہیئے۔ یہی وجہ ہے کہ میںاس امریکی اقرار کا اعادہ کرتا ہوںجس کے تحت ایک ایسی دنیا کی جستجو کی جائے گی جہاں کسی ملک کے پاس بھی ایٹمی ہتھیار نہ ہوں۔ اور ہر ملک کو، بہ شمول ایران، عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت پرامن مقاصد کے لیے ایٹمی توانائی کے حصول کا حق ہو۔ یہ اقرار اس معاہدے کی بنیاد ہے اور سب کو اس پر پوری طرح عمل پیرا ہونا چاہیئے۔ مجھے امید ہے کہ علاقے کے تمام ملک اِس مقصد میں شریک ہو سکتے ہیں،
چوتھا مسئلہ جس پر میںبات کرنا چاہوںگا، وہ جمہوریت ہے۔
میں جانتا ہوںکہ حالیہ برسوں میں جمہوریت کے فروغ کے بارے میں اختلافات رہے ہیں اور ان اختلافات کے زیادہ تر حصے کا تعلق عراق میںجنگ سے ہے۔ چنانچہ میں واضح الفاظ میںکہتا ہوں: کسی ملک کو یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی دوسرے ملک پر کوئی نظامِ حکومت مسلط کرے۔
تاہم اس سے میرا ان حکومتوں کے لیے عزم کم نہیں ہوتا جو اپنے عوام کی خواہشات کی آئینہ دار ہیں۔ ہر قوم اس اصول پر اپنے اپنے طریقے اور اپنے عوام کی روایات کے مطابق عمل پیرا ہوتی ہے۔ امریکہ یہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا کہ وہ یہ جانتا ہے کہ سب کے لیے کیا اچھا ہے، ایسے ہی جیسے ہم کسی پرامن انتخابات کے نتائج کا پہلے سے اعلان نہیں کرنا چاہتے۔ تاہم میرا یہ اٹل ایمان ہے کہ تمام انسان چند چیزیںچاہتے ہیں: اپنی رائے کا اظہار کرنے اور اپنا نظامِحکومت منتخب کرنے کی آزادی، قانون کی بالادستی اور انصاف کے یکساں اطلاق پر اعتماد، ایک ایسی حکومت کی خواہش جو شفاف ہو اور لوگوں کی جیبوں پر ڈاکا نہ ڈالے، اور اپنی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کی آزادی۔ یہ محض امریکی نظریات نہیں ہیں، یہ انسانی حقوق ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم ہر جگہ ان کی پشت پناہی کریں گے۔
(تالیاں)۔
اس عہد کی تکمیل کے لیے کوئی ایک سیدھا راستا نہیں ہے۔ تاہم یہ ضرور واضح ہے کہ انجامِکار وہی حکومتیں زیادہ مستحکم، کامیاب اور محفوظ ہوتی ہیں جو ان حقوق کا تحفظ کرتی ہیں۔ نظریات کچلنے سے ختم نہیں ہوا کرتے۔ امریکہ دنیا بھر کی تمام امن پسند اور قانون پسند آوازوں کا احترام کرتا ہے، چاہے ہمیں ان سے اختلاف ہی کیوںنہ ہو۔ اور ہم تمام منتخب اور پُر امن حکومتوں کا خیر مقدم کریں گے، بشرطیکہ وہ حکومت کرتے وقت اپنے تمام لوگوں کا احترام کریں۔
یہ آخری نکتہ اس لیے ضروری ہے کہ کچھ لوگ جمہوریت کی صرف اس وقت حمایت کرتے ہیںجب وہ اقتدار سے باہر ہوں۔ اقتدار میںآنے کے بعد وہ بڑی بے دردی سے دوسرے کے حقوق سلب کرتے ہیں۔ چاہے وہ جہاں بھی جڑ پکڑیں، عوام کی عوام کی خاطر بننے والی حکومتیں تمام برسرِ اقتدار لوگوں کے لیے ایک ہی معیار مقرر کرتی ہیں: آپ کو اپنا اقتدار جبر کے ذریعے نہیں، بلکہ عوام کی مرضی سے برقرار رکھنا چاہیئے، آپ کو اقلیتوں کے حقوق کا احترام کرنا چاہیئے اور رواداری اور مصالحت کے جذبے کے ساتھ حکومت میں شرکت کرنی چاہیئے، آپ کو عوام کے مفاد کو اور جائز سیاسی عمل کو ، اپنی جماعت کے مفاد پر ترجیح دینی چاہیئے۔ اگر یہ تمام اجزا موجود نہ ہوں، تو صرف انتخابات سے صحیح جمہوریت وجود میں نہیں آ سکتی۔
حاضرین میں موجود ایک شخص: براک اوباما، ہم تم سے پیار کرتے ہیں!
صدر اوباما: شکریہ ۔ (تالیاں) پانچواں مسئلہ جسے ہم سب کو مل کر حل کرنا ہے، وہ ہے مذہبی آزادی۔
اسلام میں رواداری کی ایک پروقار روایت موجود ہے۔ ہمیں یہ روایت اندلس اور قرطبہ کی تاریخ میں، Inquisition کے دور میں نظر آتی ہے ۔میں نے خود اپنی آنکھوں سے انڈونیشیا میںاس کا مظاہرہ دیکھا ہے جہاں مسلم اکثریتی ملک میں عیسائی آزادی سے عبادت کیا کرتے تھے۔ یہ وہ جذبہ ہے جس کی آج ہمیںضرورت ہے۔ ہر ملک کے لوگوںکو اپنی زندگیاں اپنے مذہب کی بنیاد پر، اپنے دِل، دماغ اور روح کی آواز کے مطابق، بسر کرنے کی آزادی ہونی چاہیئے۔ یہ آزادی مذہب کے پروان چڑھنے کے لیے لازمی ہے، لیکن یہ آزادی مختلف طریقوں سے خطرے سے دوچار ہے۔
بعض مسلمانوں میں یہ پریشان کن رجحان موجود ہے کہ وہ اپنے عقیدے کی پیمائش دوسروں کو کے عقائد کو رد کر کے کرتے ہیں۔ مذہبی تنوع کی رنگارنگی کو ہر حال میںبرقرار رکھنا چاہیئے، چاہے وہ لبنان کے میرونائٹ (Maronite) ہوں، یا مصر کے قبطی (Copt)۔ (تالیاں)۔ اور ایمانداری کی بات یہ ہے کہ خود مسلمانوںکے درمیان اختلافات کی دراڑیں بھی ضرور بند ہونی چاہیئیں، جیسا کہ خصوصاً عراق میں شیعوں اور سنیوںکے درمیان تفرقے نے الم ناک تشدد کو جنم دیا ہے۔
مذہبی آزادی لوگوں کے مل جل کر رہنے کی صلاحیت کا بنیادی وصف ہے۔ ہمیں ہر حال میںایسے طریقوں کا تجزیہ کرتے رہنا ہو گا جن کے تحت اس آزادی کا تحفظ کیا جا سکے۔ مثال کے طور پر امریکہ میں خیرات پر عائد قوانین نے مسلمانوں کے لیے اپنی مذہبی فرائض پر عمل پیرا ہونے کے راستے میںرکاوٹیںکھڑی کر دی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں امریکی مسلمانوںکے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم پر راسخ ہوںکہ وہ ذکٰواۃ دے سکیں۔
اسی طرح، مغربی ممالک کے لیے یہ اہم ہے کہ وہ مسلمان شہریوں پر اپنی مرضی کے مطابق اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے سے روکنے سے گریز کریں، مثال کے طور پر یہ حکم لاگو کرنا کہ مسلمان عورتوں کو کس قسم کا لباس پہننا چاہیئے۔ سادہ الفاظ میں، ہم کسی مذہب کی طرف عناد کو ترقی پسندی کی آڑ میں نہیں چھپا سکتے۔
ہونا یہ چاہیئے کہ مذہب ہمیںقریب لائے۔ اسی لیے ہم امریکہ میںایسے منصوبے شروع کر رہے ہیں جو مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کو قریب لائیںگے۔ اسی لیے ہم شاہ عبداللہ کے بین المذاہبی مکالمے اور ترکی کی قیادت کی طرف سے تہذیبوں کے اتحاد کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ دنیا بھر میںہم مکالمے کو بین المذاہب خدمات میں تبدیل کر سکتے ہیں، تاکہ لوگوںکے درمیان پل تعمیر ہوں جو انھیں عمل پر راغب کریں، چاہے وہ افریقہ میںملیریا کا سدِ باب ہو یا کسی قدرتی آفت کے بعد امدادی کارروائیاں۔
چھٹا مسئلہ جس پر میںبات کرنا چاہتا ہوں، وہ عورتوں کے حقوق ہیں ۔ (تالیاں)
میں جانتا ہوں کہ اس مسئلے پر بحث ہوتی رہی ہے۔ اور یہاں حاضرین کو دیکھ کر آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اِس مسئلے پر بہت اچھی بحث جاری ہے ۔ میں مغرب میں بعض لوگوں کے اس نظریے کو مسترد کرتا ہوںکہ وہ عورت جو اپنے بال چھپاتی ہے، وہ مساوی نہیں ہے، لیکن میںاس بات پر بھی یقین رکھتا ہوںکہ وہ عورت جس پر تعلیم کے دروازے بند کر دیے جائیں، وہ بھی مساوی نہیںہے۔ (تالیاں) ۔ اور یہ محض اتفاق نہیںہے کہ ان ممالک کے خوش حال ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیںجہاں عورتیں پڑھی لکھی ہوتی ہیں۔
مجھے اس معاملے پر صاف گوئی سے کام لینے کی اجازت دیں: خواتین کی مساوات کا مسئلہ صرف اسلام کا مسئلہ نہیںہے۔ ہم نے ترکی، پاکستان، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا جیسے مسلم اکثریتی ملکوں میں دیکھا ہے کہ انھوں نے خواتین رہنماؤں کو منتخب کیا ہے۔ اسی دوران امریکہ اور دنیا بھر میں زندگی کے بعض شعبوں میں خواتین کی مساوات کی جدوجہد اب بھی جاری ہے۔
مجھے یقن ہے کہ ہماری بیٹیاں ہمارے معاشرے کے لیے اتنی ہی کارآمد ثابت ہو سکتی ہیں جتنے ہمارے بیٹے۔ (تالیاں) ہماری مشترکہ خوش حالی اسی صورت میںپیش قدمی کر سکتی ہے جب مرد عورت سمیت تمام انسانیت کو اپنا صلاحیتوں کو مکمل طور پر بروئے کار لانے کا موقع دیا جائے۔ میں اس بات پر یقین نہیںرکھتا کہ خواتین برابری کے لیے مردوں ہی کی طرح کے فیصلے کریں، اور میں ان خواتین کا احترام کرتا ہوں جو اپنی زندگیاں روایتی طریقے سے گزارنا چاہتی ہیں۔ لیکن یہ ان کی اپنی مرضی پر منحصر ہوناچاہیئے۔ اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ کسی بھی ایسے مسلم اکثریت والے ملک کے ساتھ شراکت داری کرنا چاہتا ہے جو لڑکیوں کی تعلیم اور نوجوان خواتین کو چھوٹے قرضوں کے ذریعے اپنے خوابوں کی تعبیر دلوانے کے لیے تیار ہو۔ (تالیاں)
اور آخر میں، میںمعاشی ترقی اور مواقع کی بات کرنا چاہتا ہوں۔
میںجانتا ہوںکہ بہت سوںکے لیے عالم گیریت باہم متضاد مظہر ہے۔ انٹرنیٹ اور ٹی وی معلومات کے ساتھ ساتھ گھروں میں قابلِ اعتراض جنسیت اور بے معنی تشدد بھی لائے ہیں۔ تجارت نئی دولت اور مواقع کا وسیلہ بن سکتی ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ مقامی آبادیوں میں وسیع اکھاڑ پچھاڑ اور تغیر و تبدل بھی لا سکتی ہے۔ امریکہ سمیت تمام اقوام میں یہ تبدیلی خوف کا باعث بھی بنی ہے۔ اس بات کا خوف کہ جدیدیت ہماری معاشی پسند نا پسند کا اختیار، ہماری سیاست اور سب سے بڑھ کر، ہماری شناخت ہم سے چھین لے گی۔ یہ وہ چیزیں ہیںجو ہم اپنی برادریوں، خاندانوں، روایات اور عقائد میں سب سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔
مگر میں یہ بھی جانتا ہوں کہ انسانی ترقی کبھی روکی نہیں جا سکتی۔ ترقی اور روایت میں تضاد ہونا لازمی نہیں ہے۔ جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک نے اپنی مخصوص ثقافت کو برقرار رکھتے ہوئے زبردست معاشی ترقی کی ہے۔ یہی بات کوالالمپور سے لے کر دبئی تک مسلمان اکثریت والے ملکوں کی حیرت انگیز ترقی پر بھی صادق آتی ہے۔ قدیم وقتوںمیں اور ہمارے زمانے میںبھی مسلمان کمیونٹیوں نے دکھایا ہے کہ وہ تعلیم اور اختراع میںکمال حاصل کر سکتی ہیں۔
یہ اس لیے ضروری ہے کہ کوئی ترقیاتی منصوبہ صرف زمین سے اگنے والی اشیا پر مرکوز نہیںکیا جا سکتا، اور نہ ہی اسے اس صورت میںبرقرار رکھا جا سکتا ہے جب نوجوان طبقہ بے روزگار ہو۔ کئی خلیجی ریاستوں نے تیل کی بدولت خوش حالی حاصل کی ہے اور وہ وسیع تر ترقی پر بھی اپنی توجہ مرکوز کر رہی ہیں۔ لیکن ہم سب کو یہ بات جاننی چاہیئے کہ 21 ویں صدی کا سکۂ رائج الوقت تعلیم اور اختراع ہو گا۔ (تالیاں) ۔ایسی مسلمان آبادیوں کی تعداد خاصی ہے جن میں ان شعبوں میں بہت کم سرمایہ لگایا گیا ہے ۔ میں اپنے ملک میں بھی ان شعبوں میں پیسہ لگانے پر زور دے رہا ہوں۔ اور اگرچہ ماضی میںامریکہ نے اس خطے میں تیل اور گیس ہی پر توجہ مرکوز کی ہے، اب ہم وسیع تر تعلقات چاہتے ہیں۔
تعلیم کے میدان میں ہم دوطرفہ اشتراک کے پروگراموں کو وسعت دیں گے اور وظائف میں اضافہ کریںگے۔ ایسے ہی ایک وظیفے کی بدولت میرے والد امریکہ آئے تھے۔ (تالیاں) ۔ اور ساتھ ہی امریکی طلبا کی حوصلہ افزائی کریں گے کہ وہ مسلم ممالک میں تعلیم حاصل کریں۔ اس کے بدلے میں ہم ہونہار مسلم طلبا کو امریکہ میں انٹرن شپ دیں گے، دنیا بھر کے اساتذہ اور بچوںکی آن لائن تعلیم و تربیت کو فروغ دیں گے اور نئے نیٹ ورک قائم کریںگے، تاکہ Kansas میں بیٹھا ہوا ایک بچہ قاہرہ میں بیٹھے بچے سے فوری تبادلۂ خیالات کر سکے۔
اقتصادی ترقی کے شعبے میں، ہم بزنس کے رضاکاروںکی ایک جماعت تیار کریں گے جو مسلم اکثریتی ممالک میںموجود رضاکاروں کے ساتھ مل کر کام کر سکیں۔ اور میں اس سال انٹرپرینیورشپ کے ایک سربراہی اجلاس کی میزبانی کروں گا جس میں یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ تجارتی رہنماؤں، اداروں اور دنیا بھر کی مسلم برادریوں کے ساتھ روابط کیسے مضبوط بنائے جائیں۔
سائنس اور ٹیکنالوجی میں،ہم مسلم اکثریتی ممالک میںمیں ٹیکنالاجیکل ترقی کی امداد کے لیے اور نظریات کے منڈیوں تک منتقلی کے فروغ کے لیے ایک نیا فنڈ قائم کریںگے، تاکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو سکیں۔ ہم افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور جنوب مشرقی ایشیا میں نئے سائنسی مراکز قائم کریں گے، اور توانائی کے نئے ذرائع، ماحول دوست روزگار، ڈجیٹل ریکارڈ، صاف پانی اور نئی فصلیں اگانے کے پروگراموں میں تعاون کے لیے سائنسی ایلچی تعینات کریں گے۔ اور آج میں اسلامی کانفرنس کی تنظیم کے ساتھ مل کر پولیو کے خاتمے کے لیے ایک نئی عالمی کوشش کا اعلان کر رہا ہوں۔ او رہم زچہ و بچہ کی صحت کے فروغ کے بھی مسلم برادریوںکے ساتھ مل کر کام کریںگے۔
لیکن یہ تمام چیزیں تعاون اور اشتراک کے ساتھ ہی کی جا سکتی ہیں۔ امریکی عوام بہتر زندگی کے حصول کے لیے شہریوںاور حکومتوں، سماجی انجمنوں، مذہبی رہنماؤں اور دنیا بھر کی مسلمان برادریوں میں واقع کاروباری اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ان تمام معاملات کا حل، جن کا میں نے ذکر کیا، آسان نہیں ہو گا۔ تاہم ہم پر اس دنیا کے حصول کے لیے مل بیٹھنے کی ذمے داری عائد ہوتی ہے، وہ دنیا جہاں انتہاپسند ہمارے عوام کو دہشت زدہ نہ کر سکیں، امریکی فوجی گھر لوٹ جائیں، ایک ایسی دنیا جہاں اسرائیلی اور فلسطینی اپنی اپنی ریاستوں میںمحفوظ و مامون ہوں، جہاں ایٹمی توانائی پرامن مقاصد کے لیے استعمال کی جائے۔ ایک ایسی دنیا جہاں حکومتیں اپنے شہریوں کے لیے کام کرتی ہوں اور جہاں خدا کے تمام بندوں کے حقوق کا احترام ہوتا ہو۔ یہ وہ دنیا ہے جس کے ہم متنمی ہیں، لیکن ہم اس کو مل جل کر ہی حاصل کر سکتے ہیں۔
میں جانتا ہوں کہ کئی مسلم اور غیر مسلم اس بات پر انگلی اٹھاتے ہیں کہ کیا ہم مل کر ایک نیا آغاز کر سکتے ہیں۔ کچھ ایسے ہیں جو تفرقے کے شعلوں کو بھڑکانے اور ترقی کے راستے میں کھڑے ہونے کے مشتاق ہیں۔ کچھ کہتے ہیں کہ یہ محنت لاحاصل ہے، اور ہماری قسمت میں اختلاف لکھا ہوا ہے اور تہذیبوں کا مقدر ہی فنا ہو جانا ہے۔ اور بہت سے ایسے ہیں جو شکوک و شبہات میںمبتلا ہیں کہ آیا واقعی کوئی تبدیلی آ سکتی ہے۔ گذشتہ برسوں نے اتنے زیادہ خوف ، اور اتنی زیادہ بد اعتمادی کو جنم دیا ہے ۔لیکن اگر ہم ماضی سے پیوست رہیںتو کبھی بھی آگے کی طرف نہیںبڑھ سکیںگے۔ اور میں یہ بات خاص طور سے ہر مذہب اور ہر ملک سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں سے کہنا چاہتا ہوں، کہ تم سے زیادہ کسی میں اس دنیا کو نیا تصور دینے، اور اسے نئے سرے سے تعمیر کرنی صلاحیت نہیں ہے۔
ہم سب ایک مختصر لمحے کے لیے دنیا میں اکٹھا ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آیا ہم اس بات پر توجہ مرکوز کریں گے جو ہمیں ایک دوسرے سے دور دھکیلتی ہے، یا ہم باہم مل کر کوشش کریںگے، مسلسل کوشش، تاکہ مشترکہ میدان تلاش کر سکیں، اس مستقبل پر نظریںجما سکیں جو ہم اپنے بچوںکے لیے، اور تمام انسانوں کے وقار کے احترام کے لیے دیکھ رہے ہیں ۔
یہ چیزیں آسان نہیں ہیں۔ جنگیں شروع کرنا آسان ہے، ختم کرنا مشکل۔ دوسروں پر الزام دھرنا آسان ہے، اپنے گریبان میں جھانکنا مشکل۔ اختلافات ڈھونڈنا آسان ہے، اتفاق پیدا کرنا مشکل۔ لیکن ہمیں صحیح راستے کا انتخاب کرنا چاہیئے، صرف اس راستے کا نہیں جو آسان ہو۔ ایک اصول ایسا بھی ہے جو ہر مذہب کی بنیادوں میں موجود ہے، اور وہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کے ساتھ وہ سلوک نہ کریں جو ہم ان کی طرف سے خود پر روا رکھنا پسند نہ کرتے ہوں۔ (تالیاں) یہ حقیقت قوموں اور افراد سے بالاتر ہے، یہ وہ عقیدہ ہے جو نیا نہیں، جو نہ کالا ہے نہ سفید نہ بھورا، یہ نہ عیسائی ہے نہ مسلم نہ یہودی۔ یہ وہ عقیدہ ہے جو تہذیبوں کے گہوارے میں پروان چڑھا ہے، اور جو اب بھی دنیا کے اربوں انسانوں کے دلوں میںدھڑکتا ہے۔ یہ دوسروں پر اعتقاد ہے اور یہی وہ چیز ہے جو آج مجھے یہاںلے کر آئی ہے۔
ہمارے پاس وہ قوت موجود ہے کہ ہم وہ دنیا حاصل کر سکیںجس کے ہم متلاشی ہیں، لیکن یہ کام صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ ہمارے پاس نئے آغاز کا حوصلہ موجود ہو، ساتھ ہی ساتھ وہ بھی ذہن میںرکھتے ہوئے جو لکھا ہوا ہے۔
قرآن مجید ہمیںبتاتا ہے، "اے بنی انسان، ہم نے تمہیں مرد اور عورت پیدا کیا، اور ہم نے قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔"
تالمود ہمیں کہتی ہے: " تمام تورات امن کے فروغ کے مقصد کے لیے ہے۔"
بائبل مقدس کہتی ہے، "امن قائم کرنے والوں پر برکت، وہ خدا کے بچے کہلائیں گے۔"(تالیاں)
دنیا کے لوگ امن سے اکٹھے رہ سکتے ہیں۔ ہم جانتے ہیںکہ یہی خدا کی منشا ہے۔ اب ہمیں زمین پر اپنا کام سرانجام دینا ہے۔
آپ کا شکریہ۔آپ پر خدا کی سلامتی ہو۔ آپ کا بے حد شکریہ۔ شکریہ ۔ (تالیاں)
سہ پہر 2:o5(مقامی وقت)
ختم شد
پايان متن